اپنی شبِ قدر

موسلادھار بارش میں
کار کے چاروں شیشے بند تھے
اور دل کا دروازہ کھلا
رنگ پھیل رہا تھا
بوندیں دھار بناتی
ونڈ اسکرین پر رقص کررہی تھیں
آسمان کی وسعتیں
سیٹ پر پھول کی پنکھڑیاں بنارہی تھیں
نرم ریشے تھرتھراتے ہوئے
اپنے سرد لمس سے
محبت کی زمین پر
پانی کی چادر تان رہے تھے
قدرت مسکرارہی تھی
دنیا گلزار ہورہی تھی
اور وہ دونوں
اپنی شبِ قدر میں گُم تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>