مجبوریاں

پل پل میں
دوڑتی بھاگتی ٹرینیں
آج پھر تازہ دَم ہوکر
صبح صبح نکل پڑی ہیں
ینگ بلور پر چہار سمتوں سے
رواں دواں یہ شہر کو
ایک کونے سے دوسرے تک
ملانے والی ہوا رفتار سواریاں
لاکھوں انسانوں کی
دل کی دھڑکن بنی ہوئ ہیں

ہر اسٹیشن پر کھڑے
سینکڑوں مسافر
اپنے اپنے منزل کی آرزو لئیے
انتظار کررہے ہیں
سب کی خواہش ہے وقت پر
اپنے مرادوں کو پالینے کی
دفتروں میں حاضری ہو یا
گھر پہنچ کر گہری سانس لینے کی تمنا
نہ جانے ہر مسافر کے دل میں کیا ہے

پلیٹ فارم سے ذرا پرے
کچھ ایسے بھی ہیں
جو بچھڑنا نہیں چاہتے
کئی ٹرینیں آکر جاچکیں
مگر وہ کھوئے ہوئے ہیں
ان آنکھوں میں
جو ایک دوسرے سےکہہ رہی ہیں
”ابھی نہ جاؤ“
مگر جانا تو ہے
زندگی پلیٹ فارم پر
گذاری تو نہیں جاسکتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>