کچھ کینیڈا کے بارے میں

کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ براعظم شمالی امریکہ کے بڑے حصے پر محیط ہے۔ بحر اوقیانوس سے لے کر بحر منجمد شمالی تک پھیلا ہوا ہے۔ کینیڈا کی زمینی سرحدیں امریکہ کے ساتھ جنوب اور شمال مغرب کی طرف سے ملتی ہیں۔
canada-toronto_1292438cبرطانوی اور فرانسیسی کالونی بننے سے قبل کینیڈا میں قدیم مقامی لوگ رہتے تھے۔ کینیڈا نے برطانیہ سے بتدریج آزادی حاصل کی۔ یہ عمل 1867 سے شروع ہوا اور 1982 میں مکمل ہوا۔
کینیڈا وفاقی آئینی شاہی اور پارلیمانی جمہوریت کا مجموعہ ہے اور دس صوبہ جات اور تین ریاستوں پر مشتمل ہے۔ کینیڈا کو سرکاری طور پر دو زبانوں والا یعنی اور بین الثقافتی یعنی قوم کہتے ہیں۔ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔ کینیڈا ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور صنعتی قوم ہے۔ اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار اس کے قدرتی وسائل اور تجارت بالخصوص امریکہ کے ساتھ تجارت پر ہے جس کے ساتھ کینیڈا کی طویل المدتی شراکت ہے۔
کینیڈا کے نام کا مطلب گاؤں یا تصفیہ شدہ جگہ کا ہے۔ 1535 میں اس علاقے کے لوگوں، جو کہ آج کل کیوبیک سٹی کہلاتا ہے، نے جیکوئیس کارٹیئر کو اس جگہ سے سٹاڈاکونا کا گاؤں کہ کر متعارف کرایا۔ کارٹیئر نے اس لفظ کینیڈا کا استعمال صرف اس جگہ تک محدود نہ رکھا بلکہ ڈونا کونا یعنی جو کہ سٹاڈاکونا کا حاکم تھا، کے زیرِ انتظام پورے علاقے کو یہی نام دے دیا۔ 1547 تک نقشوں وغیرہ میں اس جگہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو کینیڈا کا نام پڑ گیا تھا۔
کینیڈا کی فرانسیسی کالونی، نیو فرانس دریائے سینٹ لارنس کے ساتھ بسائی گئی۔ بعد ازاں اس کو تقسیم کرکے دو برطانوی کالونیاں بنا دیا گیا جن کے نام اپر کینیڈا اور لوئر کینیڈا تھے۔ بعد میں انہیں ملا کر کینیڈا کا برطانوی صوبہ کہا گیا۔ 1867 الحاق کے کے بعد کینیڈا کو ایک نئی ڈومینن کا درجہ دے دیا گیا۔ 1950 تک اس کا نام ڈومینن آف کینیڈا رہا۔ جوں جوں کینیڈا کو برطانیہ سے مرحلہ وار سیاسی اختیارات اور آزادی ملتی گئی، وفاقی حکومت نے اپنے سرکاری کاغذات میں اور معاہدہ جات میں صرف کینیڈا کا نام استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بعد ازاں کینیڈا ایکٹ کے مطابق صرف کینیڈا کا نام استعمال کیا جانے لگا اور اب تک یہی واحد نام قانونی طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اسی طرح 1982 میں قومی دن کے نام کو یوم ڈومین سے بدل کر یوم کینیڈا رکھ دیا
گیا۔
مقامی طور پر اولین باشندوں کی روایات یہ کہتی ہیں کہ وہ یہاں کے اولین باشندے تھے۔ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کے مطابق شمالی علاقے یوکون میں انسانی موجودگی 26,000 سال پہلے تھی اور جنوبی علاقے اونٹاریو میں 9,500 سال پہلے انسانی آبدی کے آثار ملے ہیں۔ جب وائکنگ یعنی بحری قزاق یہاں کرکا کے مقام پر 1000عیسوی میں باقاعدہ آباد ہوئے تو یورپی اقوام یہاں پہلی بار آئیں۔ اس کے بعد آنے والے یورپی یہاں کینیڈا کے ساحل جو بحر اوقیانوس کے کنارے واقع تھے، کی مہم جوئی کی غرض سے آئے۔ ان میں جان کابوت جو 1497 میں اور مارٹن فروبشر 1576 میں برطانیہ کی طرف سے آئے۔ فرانس کی طرف سے جیکوئس کارٹیئر 1534 میں اور ڈی چیمپلیئن 1603 میں آئے۔ پہلی باقاعدہ یورپی آبادکاری کا آغاز فرانسیسیوں نے پورٹ رائل میں1605 میں اور کیوبیک سٹی میں 1608 میں کیا۔ برطانوی آبادکاری کا آغاز نیو فاؤنڈ لینڈ میں 1610 میں ہوا۔
سترہویں صدی کا بیشتر حصہ برطانوی اور فرانسیسی کالونیوں نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر گزارا۔ فرانسیسی کالونی مکمل طور پر دریائے سینٹ لارنس کی وادی میں محدود رہے اور برطانوی تیرہ کالونیوں سے لے کر جنوب تک آباد رہے۔ تاہم جوں جوں علاقے، سمندری حدود، سمور اور مچھلیوں کی کمی ہوتی گئی، فرانسیسیوں، برطانیوں اور ساحلی قبائل کے درمیان جنگیں چھڑتی گئیں۔ 1689 سے 1763کے دوران چار جنگیں لڑئی گئیں۔ یہ جنگیں فرانسیسی اور مقامی انڈینز کے مابین تھیں۔ 1763کے معاہدہ فرانس کی شرائط کے تحت فرانس کے وہ سارے علاقے جو شمالی امریکہ میں دریائے مسیسیپی کے مشرقی علاقے برطانیہ کے قبضے میں آگئے، ماسوائے دور افتادہ جزائر جو سینٹ پیئرے اور میکوائلین کہلاتے تھے۔
جنگ کے بعد برطانیوں نے محسوس کیا کہ اب وہ زیادہ تر فرانسیسی بولنے والے رومن کیتھولک علاقے میں گھر گئے ہیں جہاں کے باشندے حال ہی میں برطانوی راج کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے ہیں۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے 1774 میں ایک نیا ایکٹ منظور کیا جسے کیوبیک ایکٹ کانام دیا گیا۔ اس نئے ایکٹ کے تحت کیوبیک کے مقبوضہ علاقے میں فرانسیسی زبان، کیتھولک عقائد اور فرانسیسی شہری قوانین کو نافذ کیا گیا۔ اس ایکٹ کے برطانیہ کے لیے بہت سے غیر متوقع اور ناپسندیدہ نتائج سامنے آئے۔ سب سے پہلے تو تیرہ کالونیوں کے آباد کار بہت ناراض ہوئے، جس سے امریکی انقلاب کو مدد پہنچی۔ دوسرا ریاست ہائے متحدہ کی آزادی کے بعد برطانوی سلطنت کےتقریبا پچاس ہزار وفادار کیوبیک، نووا سکوشیا، پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ اور نیو فاؤنڈ لینڈ میں منتقل ہوگئے۔ ان کی آمد کو نووا سکوشیا میں اچھی نظر سے نہ دیکھا گیا اور نیو برونزوک کو اس کالونی سے 1784 میں باہر نکال دیا گیا۔ اب آئینی ایکٹ کے تحت انگریزی بولنے والے وفاداروں کو کیوبک میں بسانے کے لیے صوبے کو دو حصوں یعنی فرانکوفون یعنی فرانسیسی بولنے والے زیریں کینیڈا اور اینگلوفون یعنی انگریزی بولنے والے بالائی کینیڈا میں 1791 میں تقسیم کر دیا گیا۔
کینیڈا امریکہ اور برطانوی راج کے درمیان ہونے والی جنگ میں شامل تھا اور اس کے کامیابی نے کینیڈا پر طویل المدتی اثرات مرتب کیے جن میں قومی اتحاد و یگانگت اور برطانوی نژاد شمالی امریکیوں کا جذبہ قومیت پرستی شامل ہے ۔ برطانیہ اور آئر لینڈ سے 1815 میں کینیڈا میں بڑے پیمانے پر امیگریشن ہوئی۔ کئی معاہدوں کے نتیجے میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان طویل المدتی امن قائم ہوا۔
imagesجنگ بغاوت کی ناکامی کے بعد کالونیوں کے افسروں نے سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا اور 1839 میں ڈرہم رپورٹ جاری کی۔ ایک وجہ، جو کہ اینگلو فون یعنی انگریزی بولنے والوں اور فرانکو فون یعنی فرانسیسی بولنے والے لوگوں کے لیے 1837 میں بغاوت کا سبب بنی، فرانسیسی کینیڈینز کا برطانوی کلچر میں انضمام تھا۔ دونوں کینیڈا کو ملا کر ایک وفاقی کالونی بنا دی گئی اور اسے متحدہ صوبہ ہائے کینیڈا کا نام دیا گیا۔ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان 1846 میں طے پانے والی اوریگان معاہدہ کا انجام اوریگان سرحدی تنازعہ کی صورت میں ہوا۔ اس کی وجہ سے مغربی سرحد کو 49th parallel تک پھیلا دیا گیا اور اوریگان کنٹری/کولمبیا ڈسٹرکٹ پر مشترکہ قبضہ ختم ہوگیا۔ اسی کی وجہ سے وینکوور جزیرے کی کالونی 1849میں وجود میں آئی اور فریزر کھائیوں میں سونے کی تلاش کے لیے دوڑ لگ گئی۔ برٹش کولمبیا کی کالونی میں یہ کام 1858میں شروع ہوا، اگرچہ یہ دونوں کینیڈا کے متحدہ صوبے سے بالکل الگ تھلگ تھے۔ 1850 کے اواخر تک کینیڈا کے رہنماؤں نے بہت سی تحقیقی مہمات اس نیت سے بنائیں کہ اس سے رُپرٹس لینڈ اور ارکٹک ک علاقے کا قبضہ لیا جا سکے۔ بلند شرح پیدائش کی وجہ سے کینیڈا کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا، یورپی امیگریشن اسی دوران امریکہ منتقل ہونا شروع ہو گئی، خصوصا فرانسیسی کینڈینز نیو انگلینڈ کی طرف منتقل ہوئے۔
عظیم اتحادکے فورا بعد چارلیٹ ٹاؤن کانفرنس اور پھر کیوبیک کانفرنس 1864میں اور پھر 1866کی لندن کانفرنس کے بعد تین کالونیوں کینیڈا، نووا سکوٹیا اور نیو برنزوک نے اس کنفیڈریشن کا انتظام سنبھال لیا۔ برطانوی شمالی امریکہ ایکٹ نے کینیڈاکے نام سے ایک ڈومینن بنا دی جس میں چار صوبے اونٹاریو، کیوبیک، نووا سکوٹیا اور نیو برنزوک شامل تھے۔ جب کینیڈا نے رپرٹس لینڈ اور شمال مغربی علاقے کا انتظام سنبھالا جو 1870 میں ملا کر شمال مغربی علاقہ بنتے تھے تو ان کی توجہ میٹس سے ہٹ گئی اور اس کے نتیجے میں سرخ دریائی بغاوت نے جنم لیا اور بالآخر مینیٹوبہ کا صوبہ تشکیل پایا اور جولائی 1870 میں کنفیڈریشن میں شامل ہوا۔ برٹش کولمبیا اور جزائر وینکوور (جو کہ 1866میں متحد ہوگئے) اور جزائر پرنس ایڈورڈ کی کالونی کنفیڈریشن کو بالترتیب 1871 اور 1873 میں شامل ہوئے۔ یونین کو آپس میں ملانے اور مغربی صوبوں پر اپنا انتظام برقرار رکھنے کے لیے کینیڈا نے پورے براعظم کو ملانے والی ٹرین کی تین پٹریاں بچھائیں جن میں سب سے اہم کینیڈین پیسیفک ریلوے تھی۔ اس کی مدد سے ڈومینن لینڈز ایکٹ کے تحت امیگرینٹس کی چراگاہوں کی طرف منتقل ہونے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس کی وجہ سے نارتھ ویسٹ ماؤنٹڈ پولیس کو قائم کیا گیا۔ ان علاقوں میں آباد اصل باشندوں کو علاقہ مخصوصیہ منتقل کیا گیا۔[1]جوں جوں آباد کار چراگاہوں کی طرف ٹرینوں کی مدد سے منتقل ہوئے تو آبادی بڑھتی چلی گئی، شمال مغربی علاقوں کو صوبے کا درجہ دے دیا گیا جس سے البرٹا اور ساسکاچیوان 1905میں بنے۔
1914 میں جب برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں شمولیت کا اعلان کیا تو کینیڈا خود بخود جنگ میں شریک ہو گیا۔ اس نے رضاکاروں پر مبنی ڈویژنز بھیجیں تاکہ مغری محاذ پر قومی ذمہ داری کا دفاع کیا جاسکے۔ ہلاکتیں اتنی بڑھ گئیں کہ وزیر اعظم رابرٹ بورڈن کو 1917 میں عام لام بندی یعنی جبری فوجی بھرتی کا حکم دینا پڑا جس کی کیوبیک میں شدت سے غیر مقبولیت پیدا ہوئی اور اس کی کنزرویٹو پارٹی نے اپنی حمایت کھودی۔ اگرچہ آزادی پسند جبری بھرتی کی وجہ سے بہت منقسم تھے لیکن پھر بھی وہ ایک نمایاں سیاسی پارٹی بن کر ظاہر ہوئے۔
1919 میں کینیڈا نے لیگ آف نیشنز میں اپنی مرضی سے شمولیت اختیار کی اور 1931 میں ویسٹ منسٹر کے دفتر نے تصدیق کی کہ اس کی مرضی کے بغیر برطانوی پارلیمان کینیڈا پر کوئی بات نہیں کر سکتی۔ اسی دوران عظیم معاشی بحران جو کہ 1929 میں ہوا، نے کینیڈا کو ہر طرح سے متائثر کیا۔ البرٹا اور سسکیچوان میں جنم لینے والی باہمی دولت مشترکہ فیڈریشن نے ٹومی ڈوگلس کی فلاحی ریاست والی بات کا اشارہ دیا جس کی 1940سے 1950 میں داغ بیل پڑی۔ 1930 کے اواخر میں جرمنی سے تسلی بخش جواب ملنے کے بعد لبرل وزیر اعظم ولیم لوئن میکنزی کنگ نے پارلیمنٹ کے فیصلے کی توثیق کردی کہ کینیڈا 1939 میں دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوں اور انہوں نے اپنے فوجی دستوں کو جرمنی کے پولینڈ پر حملے سے قبل متحرک کیا۔ جنگ کے دوران کینیڈا کی معیشت نے بہت تیزی سے ترقی کی جس کی بڑی وجہ کینیڈا، برطانیہ، چین اور روس کے لیے جنگی ہتھیاروں کی تیاری تھی۔ جنگ کے اختتام پر کینیڈا کی فوجی طاقت کا شمار دینا کی بڑی فوجی طاقتوں میں ہوا۔ 1949 میں نیو فاؤنڈ لینڈ کی ڈومینن نے کنفیڈریشن میں شمولیت اختیار کی اور کینیڈا کا دسواں صوبہ بنا۔
کینیڈا کے سو سال مکمل ہونے پر 1967 میں جنگ کے بعد مختلف یورپی ممالک سے امیگریشن کا تانتا بندھ گیا۔ اس سے کینیڈا کی جمہوری شکل تبدیل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ویت نام کی جنگ کے دوران امریکہ سے جنگ کے باغی بھی کینیڈا کے مختلف حصوں میں آکر آباد ہوئے۔ بڑھتی ہوئی امیگریشن، شرح پیدائش میں اضافہ اور مضبوط معیشت کی وجہ سے 1960کے عشرے کے دوران کینیڈا کا شمار امریکہ کے برابر ہونے لگا۔ اس کے رد عمل کے طور پر کیوبیک میں خاموش انقلاب برپا ہوا اور ایک نئے قوم پرست جذبے کی ابتدا ہوئی۔
نومبر 1981کے دوران ہونے والی وزرا کی میٹنگ میں صوبائی اور وفاقی حکومت نے یہ طے کیا کہ آئین سے رجوع کیا جائے تاکہ اس میں ترمیم کا طریقہ کار طے کیا جائے۔ اگرچہ کیوبیک کی حکومت نے اس کی مخالفت کی، پھر بھی 17 اپریل 1982کو کینیڈا نے ملکہ الزبتھ دوم کی منظوری سے اپنے آئین کو برطانوی آئین سے علیحدہ کر لیا اور اپنے آپ کو ایک آزاد مملکت کا درجہ دے دیا اگرچہ دونوں ممالک ابھی بھی مشترکہ علامتی بادشاہت کے ماتحت تھے۔
آزادی کے بعد 1960کے خاموش انقلاب کے دوران کیوبیک بہت سی سماجی اور معاشی تبدیلیوں سے گزرا۔ کچھ کیوبیک کے رہائشی زیادہ صوبائی خود مختاری یا کینیڈا سے جزوی یا مکمل آزادی پر زور دینے لگے۔ انگریزی اور فرانسیسی بولنے والوں کا اختلاف بہت بڑھ گیا۔ 1980کے دوران ہونے والے ریفرنڈم میں کثرت سے اور 1995 میں ہونے والے دوسرے ریفرنڈم میں لوگوں نے 50.6% کی نسبت 49.4% کے معمولی سے فرق سے کینیڈا سے آزادی کو مسترد کردیا۔ اسی دوران 1997 میں سپریم کورٹ نے اس بات کو اگرچہ مسترد کردیا لیکن دریں خانہ آزادی کی تحریک چلتی رہی۔
امریکہ کےساتھ معاشی اتحاد دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بڑھنے لگا۔1987 کے امریکہ-کینیڈا آزادانہ تجارت کے معاہدے سے یہ بات مزید واضح ہوئی۔ موجودہ دہائیوں میں کینیڈا کے لوگ اپنی ثقافتی خود مختاری کے لیے بہت پریشان ہیں کیونکہ ٹی وی شوز، فلمیں اور کمپنیاں بہت زیادہ عام ہو گئی ہیں۔ تاہم کینیڈا کو اپنے عالمگیری نظام صحت پر اور کثیر الثقافی ملک ہونے پر فخر ہے۔
کینیڈا میں ملکہ الزبتھ کے ساتھ آئینی بادشاہت کا نظام قائم ہے جو کینیڈا کے سربراہ مملکت کا کام سر انجام دیتی ہیں اور وفاقی طرز کی پارلیمانی جمہوریت کا نظام بھی ہے اور اس کی سیاسی روایات بہت مضبوط ہیں۔
کینیڈا کا آئین ملک کے قانونی ڈھانچے کی روح ہے اور یہ تحاریر اور غیر تحریری روایات اور رسموں پر مشتمل ہے۔ آئین میں کینیڈا کا آزادی اور حقوق کا چارٹر شامل ہے جو کینیڈا کے باشندوں کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادی دیتا ہے اور اس کو کوئی بھی حکومت کسی بھی قانون کے تحت ختم نہیں کر سکتی۔ تاہم اس میں ایک ایسی ناقابل قبول شق شامل ہے جس سے وفاقی پارلیمان اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس چارٹر کے کچھ حصوں کو عارضی طور پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم کی حیثیت کینیڈا کے حکومت سربراہ کی ہے اور یہ عموما حکمران سیاسی پارٹی کا رہنما ہوتا ہے جو اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو۔ وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کو گورنر جنرل، جو ملکہ کا نمائندہ ہوتا ہے، کی طرف سے باقاعدہ مقرر کیا جاتا ہے۔ تاہم وزیر اعظم کابینہ کو خود سے منتخب کرتا ہے اور روایات کے مطابق گورنر جنرل کو وزیر اعظم کے انتخاب کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ عموماً کابینہ وزیر اعظم کی اپنی جماعت ہوتی ہے جو دونوں ایوانوں سے منتخب ہوتی ہے۔ یہ لوگ حکومت کے سب سے با اختیار ممبران ہوتے ہیں اور ان کا باقاعدہ پریوی کونسل کے سامنے حلف لیا جاتا ہے اور وہ تاج کے ماتحت وزرا کہلاتے ہیں۔ وزیر اعظم اپنے اختیارات کو سیاسی اور حکومتی معاملات میں استعمال کرتا ہے اور حکومتی و شہری اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کرتا ہے۔ مچل جین نے 25 ستمبر 2005 کو گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا اور سٹیفن ہارپر جو قدامت پرست جماعت کے رہنما ہیں، 6 فروری 2006 سے وزیر اعظم چلے آرہے ہیں۔
وفاقی پارلیمان ایک ملکہ اور دوایوانوں پر مشتمل ہے: ایک ایوان نمائندگان جو براہ راست منتخب ہو کر آتے ہیں اور دوسرے نامزد کردہ ارکان سینیٹ۔ ہر ممبر برائے ایوان نمائندگان کا انتخاب ہر حلقے سے سادہ اکثریت سے ہوتا ہے اور عام انتخابات کا اعلان گورنر جنرل وزیر اعظم کے مشورے سے کرتا ہے۔ پارلیمینٹ کی کوئی کم از کم مدت مقرر نہیں ہے، لیکن اگلے انتخابات پہلے والے انتخابات سے پانچ سال کے اندر اندر ہونے لازمی ہیں۔ سینیٹ کی نسشتیں جو کہ علاقائی حوالے سے منقسم نشستوں پر ہوتی ہے، پر ارکان کا انتخاب وزیر اعظم کرتا ہے اور اس کی رسمی منظوری گورنر جنرل دیتاہے۔ سینیٹ کے کل 75 ارکان ہوتے ہیں۔
کینیڈا کی چار بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ قدامت پرست پارٹی ، لبرل پارٹی ، نئی جمہوری پارٹی یعنی این ڈی پی، بلاک کیبوبیکوئس ۔ موجود حکومت قدامت پرست پارٹی کی ہے۔ جبکہ گرین پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی اس وقت پارلیمان میں کوئی نمائندگی نہیں ہے، تاریخی اعتبار سے سیاسی پارٹیوں کی طویل فہرست موجود ہے۔
کینیڈا کی عدلیہ قانون کی توجیح اور وضاحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور آئین سے متصادم قوانین کو ختم کرنے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ آف کینیڈا یہاں کی سب سے بڑی عدالت اور آخری فیصلہ کن اتھارٹی ہے۔ اس کی سربراہی جنابہ میڈم چیف جسٹس بیورلے میک لاچلین، پی سی ہیں۔ اس عدالت کے کل نو ممبران ہوتے ہیں جن کا تقرر گورنر جنرل وزیر اعظم کے مشورے سے کرتا ہے۔ اسی طرح تمام اعلٰی اور اپیل کی عدالتوں کے ججوں کا تقرر وزیر اعظم اور وزیر انصاف اور دیگر غیر حکومتی قانون سے متعلقہ اداروں کے مشورے سے ہوتا ہے۔ وفاقی کابینہ صوبائی اور ریاستی لیول پر اعلٰی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کرتی ہے۔ ماتحت عدالتوں کی تقرری صوبائی اور ریاستی حکومتیں خود سے کرتی ہیں۔
کامن لا ما سوائے کیوبیک، ہر جگہ لاگو ہوتا ہے۔ کیوبیک میں سول لا کی حکمرانی ہے۔ کرمنل لا مکمل طور پر وفاقی ذمہ داری ہے اور پورے کینیڈا میں یکساں لاگو ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول کریمنل کورٹس صوبائی ذمہ داری ہوتے ہیں لیکن اکثر صوبوں میں یہ وفاقی شاہی کینیڈا کی پولیس سے مستعار لیے جاتے ہیں۔
کینیڈا دس صوبوں اور تین ریاستوں کا مجموعہ ہے۔ صوبہ جات کے نام البرٹا، برٹش کولمبیا، مینی ٹوبہ، نیو برنزوک، نیو فاؤنڈ لینڈ اور لیبریڈار، نووا سکوشیا، اونٹاریو، پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ، کیوبیک اور ساسکچیوان ہیں۔ ریاستوں میں نارتھ ویسٹ ریاست، نُناوُت اور یوکون ریاست شامل ہیں۔ صوبوں کو وفاق کی جانب سے بہت زیادہ خود مختاری حاصل ہے اور ریاستوں کو کچھ کم آزادی حاصل ہے۔ اسی طرح ہر ایک کی اپنے صوبائی اور ریاستی علامات ہیں۔
صوبہ جات کی ذمہ داریوں میں کینیڈا کے سماجی پروگرام شامل ہیں مثلا ہیلتھ کیئر، تعلیم اور فلاح و بہبود وغیرہ اور یہ سب صوبے مل کر وفاق کے لیے رقم جمع کرتے ہیں۔ کینیڈا کا یہ ڈھانچہ دنیا میں واحد اور اپنی طرز کا انوکھا نظام ہے۔ وفاقی حکومت صوبوں میں قومی پالیسیاں بنا سکتی ہے مثلاً کینیڈا کا ہیلتھ ایکٹ، جن میں سے صوبہ جات اپنی مرضی کی پالیسی منتخب کر سکتے ہیں اگرچہ یہ بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے۔ برابری کے پروگرام یعنی ایکویلائزیشن پے منٹس کے نظام کے تحت وفاق ہر صوبے کو برابر رقوم دیتا ہے تاکہ غریب اور امیر، ہر صوبے کو ہر پروگرام کے لیے یکساں رقم ملے۔
تمام صوبہ جات کی اپنی صرف ایک اسمبلی یا مقننہ ہوتا ہے۔ تمام ممبران مل کر اپنے پریمئر کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر یہی طریقہ کار وزیر اعظم کے لیے اپنایا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر صوبے میں گورنر کا نائب لیفٹیننٹ گورنر بھی ہوتا ہے جو ملکہ کی نمائندگی کرتا ہے جس کا انتخاب صوبوں کی مشاورت سے وزیر اعظم خود کرتا ہے۔ آج کل نائب گورنر کے انتخاب میں صوبوں کا بہت عمل دخل ہو گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>