شبِ فراق

اے شبِ فراق
اپنے وقت سے کہہ دے
تیز قدم اٹھا
دل اب مزید
تنہا رہنے کا متحمل نہیں

ملن

یہ اعجاز ہے
حسنِ بارش کا
دونوں کہیں بھی ہوں
اِک دوسرے سے آن ملتے ہیں
کسی پیڑ کے نیچے
یا فون کی آہٹ تلے

ناشتہ

لفظ اس کے
خیال اس کا
ردیف اس کی
قافیہ اس کا
باندھا جو مضمون
وہ بھی اس کا
مگر ۔۔۔۔۔۔۔
ناشتہ جو بنا ہے تازہ تازہ
وہ میرا
-
-
سمجھا کرو یار!
بہت بھوک لگی ہوئی ہے۔

سیلوٹ

نامعلوم دستے
باعثِ افتخار ہیں
ہماری اعلیٰ
فوجی دستوں کیلئے
بیرونی حملے
تو محض بہانہ ہیں
جمہوریت،شخصی آزادی
اصل خطرہ ہے ان کیلئے
مرزا یاسین بیگ

اپنی شبِ قدر

موسلادھار بارش میں
کار کے چاروں شیشے بند تھے
اور دل کا دروازہ کھلا
رنگ پھیل رہا تھا
بوندیں دھار بناتی
ونڈ اسکرین پر رقص کررہی تھیں
آسمان کی وسعتیں
سیٹ پر پھول کی پنکھڑیاں بنارہی تھیں
نرم ریشے تھرتھراتے ہوئے
اپنے سرد لمس سے
محبت کی زمین پر
پانی کی چادر تان رہے تھے
قدرت مسکرارہی تھی
دنیا گلزار ہورہی تھی
اور وہ دونوں
اپنی شبِ قدر میں گُم تھے

مجبوریاں

پل پل میں
دوڑتی بھاگتی ٹرینیں
آج پھر تازہ دَم ہوکر
صبح صبح نکل پڑی ہیں
ینگ بلور پر چہار سمتوں سے
رواں دواں یہ شہر کو
ایک کونے سے دوسرے تک
ملانے والی ہوا رفتار سواریاں
لاکھوں انسانوں کی
(more…)

« Older Entries