میرا دوسرا وطن

tr-canada-toronto-608کینیڈا میرا دوسرا وطن ہے۔ اس دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں حالات سو فیصد درست ہوں مگر قابلِ قدر بات یہ ہے کہ کینیڈا میں قوانین کی بالادستی ہے۔ اگر چند شہری خلافِ قانون کام کرتے ہیں تو بلاتفریق ذات پات ان کے خلاف کارروائی ہوتی ہے،اگر کسی معاملے میں ریاست یا قانون سے معمولی سی بھی غفلت ہوجائے تو میڈیا آڑے ہاتھوں لے لیتا ہے۔ اس لیئے نوبت ہی نہیں آتی کہ مصلح اعظم یا مفسدِ اعظم کا کردار ادا کیا جائے ۔ جو کماتا ہوں اس کا پورا ٹیکس دے دیتا ہوں، فیملی یہیں ہے تو خرچ بھی یہیں کرتا ہوں ۔ چیٹنگ کرکے حکومت سے کوئی مراعت کبھی نہیں لی۔ اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ دے کر کوئ پیسہ نہیں کمایا۔کیش جاب کرکے بلا ٹیکس والا کیش جمع کرکے کینیڈین گورنمنٹ کو دھوکہ دے کر اسے پاکستان نہیں بھجوایا۔ اس ڈر سے کہ بیوی بچے خراب ہوجائیں گے انھیں شہریت دلواکر پاکستان واپس نہیں بھیجا، یہ کام وہ کرتے ہیں جن کا اپنا ضمیر اپنے ماضی کے گناہوں پر کچوکے دیتا ہے۔ کچھ لوگ بیوی، بچوں کو پاکستان اس لیئے بھی بھجوادیتے ہیں کہ یہاں اکیلے رہ کر کھل کر عیاشی کرسکیں۔ ایک جانب تو وہ خود کینیڈا اور اپنی فیملی کے ساتھ بےایمانی کررہے ہیں،یہاں کے پیسے سے پاکستان میں اسٹیٹس بنارہے،جائدادیں خرید رہے ہیں اور جب میں پاکستان کی خراب معاشرتی اور سیاسی صورتحال پر اپنی رائے کا اظہار کرتا ہوں تو ان کی نام نہاد حب الوطنی اور اسلام دوستی جاگ پڑتی ہے۔کبھی مجھے اسلام کی چھری سے ذبح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی کینیڈا کی برائیاں جتا جتا کر مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ مجھے وہ کیوں نظر نہیں آرہی ہیں اور میں ان پر کیوں نہیں لکھتا؟ (اس کا جواب میں اوپر لکھ چکا ہوں) یہ منافق اور ڈبل اسٹینڈرڈ کے لوگ سالہا سال سے کینیڈا میں رہنے کے باوجود اپنے تنگ ذہنوں کا علاج نہ کرواسکے۔ میں حیران ہوں کہ مسائل کو سمجھنے اور پوسٹ کی نوعیت کے اعتبار سے اس دائرے میں رکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی بجائے یہ ذاتی حملے شروع کردیتے ہیں یا پھر ادھر ادھر کی بونگیاں مارنے لگتے ہیں۔ مہربانی ہوگی کہ آپ اگر آپ دلیل کے ساتھ رائے کا اظہار کریں۔یہی پڑھے لکھوں کا شیوہ ہے۔

کچھ کینیڈا کے بارے میں

کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ براعظم شمالی امریکہ کے بڑے حصے پر محیط ہے۔ بحر اوقیانوس سے لے کر بحر منجمد شمالی تک پھیلا ہوا ہے۔ کینیڈا کی زمینی سرحدیں امریکہ کے ساتھ جنوب اور شمال مغرب کی طرف سے ملتی ہیں۔
canada-toronto_1292438cبرطانوی اور فرانسیسی کالونی بننے سے قبل کینیڈا میں قدیم مقامی لوگ رہتے تھے۔ کینیڈا نے برطانیہ سے بتدریج آزادی حاصل کی۔ یہ عمل 1867 سے شروع ہوا اور 1982 میں مکمل ہوا۔
کینیڈا وفاقی آئینی شاہی اور پارلیمانی جمہوریت کا مجموعہ ہے اور دس صوبہ جات اور تین ریاستوں پر مشتمل ہے۔ کینیڈا کو سرکاری طور پر دو زبانوں والا یعنی اور بین الثقافتی یعنی قوم کہتے ہیں۔ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔ کینیڈا ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور صنعتی قوم ہے۔ اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار اس کے قدرتی وسائل اور تجارت بالخصوص امریکہ کے ساتھ تجارت پر ہے جس کے ساتھ کینیڈا کی طویل المدتی شراکت ہے۔
کینیڈا کے نام کا مطلب گاؤں یا تصفیہ شدہ جگہ کا ہے۔ 1535 میں اس علاقے کے لوگوں، جو کہ آج کل کیوبیک سٹی کہلاتا ہے، نے جیکوئیس کارٹیئر کو اس جگہ سے سٹاڈاکونا کا گاؤں کہ کر متعارف کرایا۔ کارٹیئر نے اس لفظ کینیڈا کا استعمال صرف اس جگہ تک محدود نہ رکھا بلکہ ڈونا کونا یعنی جو کہ سٹاڈاکونا کا حاکم تھا، کے زیرِ انتظام پورے علاقے کو یہی نام دے دیا۔ 1547 تک نقشوں وغیرہ میں اس جگہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو کینیڈا کا نام پڑ گیا تھا۔
(more…)